Monday, 20 December 2021

جو خزاں میں شامل درد تھے انہی خشک پات سے بھی گیا

 جو خزاں میں شاملِ درد تھے انہی خشک پات سے بھی گیا

مجھے صبحِ نو کی تلاش تھی میں اندھیری رات سے بھی گیا

تجھے ساحلوں میں جو ڈھالتا جو بھنور سے مجھ کو نکالتا

مجھے وہ خدا بھی نہ مل سکا، میں منات و لات سے بھی گیا

بڑے خواب تھے مِری آنکھ میں کہ میں ایک تھا کئی لاکھ میں

مجھے بے زری یوں نگل گئی کہ میں معجزات سے بھی گیا

مِری عمربھر کا صِلہ تھا تُو، بڑی مشکلوں سے ملا تھا تُو

تجھے ایک پل میں گنوا کے میں بھری کائنات سے بھی گیا

تِری جستجو کے سفر میں تھا میں نہ جانے کیسے نگر میں تھا

کہیں دوجہان تھے ہم نفس،۔ کہیں اپنے ساتھ سے بھی گیا

مِرے دوستوں کی یہ چال ہے، کہ مِرے عدو کا کمال ہے

میں سمندروں کا تھا ہم نشیں، میں لبِ فرات سے بھی گیا

میں عبادتوں کا سرور تھا، میں محبتوں کا غرور تھا

میں فنا کے دام میں آ گیا، میں بقائے ذات سے بھی گیا


دائم بٹ

No comments:

Post a Comment