آئے گا تِرے پاس نہ دنیا کا کوئی شر
اے صاحبِ اوصاف تُو والنّاس پڑھا کر
منظورِ نظر اہلِ طرب ہی ہیں تِرے کیوں
ہم سے بھی تو، تُو مل کبھی صحراؤں میں آ کر
لوگوں کی نگاہوں سے چھپاؤں تجھے کیسے
اے شخص! تِرا نام تو لکھا ہے جبیں پر
اب آنکھ کے سوتے سے نکلتا نہیں ہے خوں
اک عمر ہوئی سُوکھ گیا درد کا ساغر
تُو وادئ گلشن کے اُجڑنے کا سبب ہے
الزام یہ رکھا ہے بہاروں نے مِرے سر
حرا قاسمی
No comments:
Post a Comment