تُو جانتا بھی ہے اس کہانی کا کیا بنے گا
تِری عقیدت سے سنگریزہ خدا بنے گا
اسے ملوں گا تو میری مٹی چمک اٹھے گی
یہ پھول اس کے لبوں کو چُھو کر دعا بنے گا
ہم اتنی رغبت سے اس کی آنکھوں کو دیکھتے ہیں
خدا نہ کردہ یہ شوق بڑھ کر نشہ بنے گا
یہ لمحہ جس میں ہم آج چُھپ کر گلے ملے ہیں
اگر مقدر نہیں ملا تو سزا بنے گا
میں دو قبیلوں کی دشمنی کو مٹا رہا ہوں
ہماری شادی سے اک نیا سلسلہ بنے گا
نعمان بدر
No comments:
Post a Comment