ضروری تو نہیں پلکوں پہ ہر دم دُکھ سجا رکھو
ابھی تو زندگی باقی ہے، کچھ آنسُو بچا رکھو
کسی دن لوٹ آئے گا،۔ تمہاری یاد آئی تو
ابھی کچھ دن گُزرنے دو، ابھی تم حوصلہ رکھو
سُنو، رستہ کٹھن ہے، دُور منزل ہے بہت، لیکن
مجھے کافی ہے تم خُود کو جو مصروفِ دُعا رکھو
یہاں دل توڑنا ہے معمول ہے، یا مشغلہ کہہ لو
تمہیں کس نے کہا تھا ہم سے اُمیدِ وفا رکھو؟
محبت کو نباہنے کا سلیقہ چاہیے سدرہ
اُسے ہر حال میں چاہو، اُسے اپنا بنا رکھو
سدرہ ایاز
No comments:
Post a Comment