وقت کی مسافت پہ
یاد ہے اس گھڑی شام تیزی سے
گرتی چلی جا رہی تھی درختوں کے پیچھے
اُجالے کے ریزے
لُڑھکنے لگے تھے سیہ غار کی سمت
ہم چُن رہے تھے
خموشی کی بکھری ہوئی کرچیاں
وقت کی ایک لمبی مسافت پہ رکھی تھی
یادوں کی گٹھڑی
ٹھٹھرتے ہوئے دن کا ٹکڑا
جو بے وجہ آنکھوں میں
چُبھنے لگا تھا
ندی کے کنارے ٹہلتی ہوئی گرمجوشی
اُلجھتی سُلجھتی ہوئی چند شامیں
زمانوں کی زنجیر ہلنے لگی
اور مِرا ہاتھ بڑھنے لگا
بند گٹھڑی کی جانب
تبھی دُور اُڑتے پرندے کی آواز سے دفعتاً سحر ٹُوٹا
چلو جیسے قسمت میں لکھا تھا، تم مُسکرائے
چلو چھوڑو جانے دو، میں نے کہا تھا
سرکتی ہوئی شام کے
سرد دل میں
دُھواں بھر گیا تھا
گلناز کوثر
No comments:
Post a Comment