Monday, 8 August 2022

لشکر شاہ شہیداں کا علمدار ہوں میں

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر عباس علمدار


لشکرِ شاہِ شہیداںؑ کا علمدار ہوں میں

کاروانِ شہِ مظلوم کا سردار ہوں میں

ثانئ شیرِ خدا، دین کی دیوار ہوں میں

جس کی تمثیل نہیں ہے وہ وفادار ہوں میں

پیاس پانی کی بجھائے جو وہی پیاس ہوں میں

میں تمنائے علیؑ ہوں، سخی عباس ہوں میں

اپنی پہچان زمانے کو عیاں کرتا ہوں

آج میں اپنی حقیقت بھی بیاں کرتا ہوں

میں تو باطل کے ارادوں کو دھواں کرتا ہوں 

اپنی نظروں سے جدا جسم سے جاں کرتا ہوں

کربلا میں نہیں تلوار چلائی میں نے

اپنی ہیبت سے ہی جیتی ہے ترائی میں نے

ہم اگر آئیں گے میدان میں شیروں کی طرح

سر نظر آئیں گے اڑتے ہوئے پتوں کی طرح

تن بکھر جائیں گے اوراق کے ٹکڑوں کی طرح

خونِ رگ برسے گا طوفان کے دھاروں کی طرح

نہر ہو گی نہ کوئی جنگ کا منظر ہو گا

دشتِ کربل تو فقط خوں کا سمندر ہو گا

میں اگر چاہوں تو چلّو میں سما لوں دریا

یہ زمیں کیا ہے ستاروں سے نکالوں دریا

زور سے اپنی نگاہوں کے اٹھا لوں دریا

کاٹ کے تیغ سے خیمے میں بہا لوں دریا

تا قیامت در و دیوار سے پانی نکلے

مرے اک اِذن پے سنسار سے پانی نکلے

ساری دنیا میں ہے مشہور سخاوت میری

دِل ہلاتی ہے لعینوں کا شجاعت میری

آسماں لرزاں ہے سن سن کے خطابت میری

خاک کر دیتی ہے بجلی کو جلالت میری

چاند شرماتا ہے چہرے کی چمک سے میری

یہ زمیں ہلتی ہے پیروں کی دھمک سے میری

مرضئ حضرتِ شبیرؑ اگر پا جاؤں

جانبِ نہر کو بس کچھ ہی پلو میں جاؤں

دشمنِ دیں پہ گھٹا موت کی میں برساؤں

فوجِ اعداء کو قیامت کا سماں دکھلاؤں

لشکرِ شام کو میں موت نظر آؤں گا

بھر کے مشکیزے میں دریا کو اٹھا لاؤں گا

کربلا میں نظر آیا مِری ہیبت کا اثر

مِری آمد سے ہی لرزاں تھے سبھی بانئ شر

پاؤں رکھتے تھے اِدھر خوف سے پڑتا تھا اُدھر

ٹوٹے نیزے نے اڑا ڈالے جفاکاروں کے سر

میرے اک وار سے میداں میں تباہی آئی

ٹوٹے نیزے سے ہی مقتل میں قیامت چھائی

قدمِ شبیرؑ کی مٹی سے محبت ہے مجھے

حکمِ آقا پہ عمل کرنے کی عادت ہے مجھے

خدمتِ شاہ سے اک پل کہاں فرصت ہے مجھے

اس قدر سیدِ ابرار سے قربت ہے مجھے

اپنے آقا پہ دل و جان سے قربان ہوں میں

حشر تک سبطِ پیمبر کا نگہبان ہوں میں

پرچموں کا جو ہے سلطان، علم میرا ہے

دینِ احمدﷺ کا نگہبان، علم میرا ہے

اہلِ ایمان کی پہچان،علم میرا ہے

ذی شرف بالا و ذیشان، علم میرا ہے

جب فضا میں یہ علم شان سے لہراتا ہے

عرش سے چومنے جبریلؑ چلا آتا ہے


عسکری عارف

No comments:

Post a Comment