Monday, 8 August 2022

کربلائے سخن اب خشک ہے کیسا پانی

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ شہدائے کربلا


کربلائے سخن اب خشک ہے کیسا پانی

چشمِ تر تُو ہی ذرا دیر کو برسا پانی

بندشِ آب چٹانوں کا جگر کاٹ گئی

انتہا یہ کہ نشیبوں میں نہ ٹھہرا پانی

یوں رواں ہوتا نہ دریائے کرم شہؑ کا، تو لوگ

جھانکتے پھرتے کنویں اور نہ ملتا پانی

شہرِ دل ہو گیا آباد غمِ سرورؑ میں

سرزمیں اچھی، ہوا اچھی ہے، اچھا پانی

کس حدِ صبر پہ خاموش تھے انصارِ حسینؑ

‘لشکرِ شام تو چیخ اٹھتا ’خدا را پانی

کہہ کے یہ نوش کیا آبِ شہادت حُرؑ نے

’ایسے پانی سے تو ہے تیغ کا اچھا پانی‘

مشک بے آب علمدارؑ کی اور دل سیراب

کہیں قطرہ نہیں پانی، کہیں دریا پانی

کس پذیرائی سے موجوں نے قدم بوسی کی

مقدمِ صاحبِ رایت کا تھا پیاسا پانی

اُس طرف پانی ہی سرچشمۂ جنگ اور اِدھر

مقصدِ رزم تھا کچھ اور بہانہ پانی

پیاس میں آنکھ بالآخر جو سکینہؑ کی لگی

خواب میں حدِ نجف تک نظر آیا پانی

سن کے اکبرؑ کا سخن شہؑ نے بہ حسرت یہ کہا

’کہنا سب کچھ مِرے پیاسے یہ نہ کہنا پانی‘

اس قدر ہو گیا محجوب کہ پیشِ اصغرؑ

اپنی صورت بھی دکھانے نہیں آیا پانی

دجلۂ وقت ہی ساکن ہو تو کیا کہیے نصیر

ماہیٔ طبع کو درکار ہے بہتا پانی


نصیر ترابی

No comments:

Post a Comment