عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ شہیدانِ کربلا
ناموسِ اہلِ بیت کے سر کی رِدا بھی چِھن گئی
جو سجدہ گاہِ قدسیاں تھی وہ قبا بھی چھن گئی
الٹی قناتوں میں رواں، آتش یزیدی جاہ کی
لُٹتی صفوں میں دربدر عترت رسول اللہ کی
جِس ہاتھ سے تھپڑ پڑے وہ ہاتھ اک کردار تھا
عارض سکینہؑ کے نہ تھے، تاریخ کا رخسار تھا
تردید کی تکرار میں حق کی صدا بڑھتی گئی
جبر و تشدّد میں نوائے بے نوا بڑھتی گئی
جتنا شعارِ محتسب دشوار تر ہوتا گیا
اتنا ہی ذکرِ خونِ ناحق، مشتہر ہوتا گیا
مصطفیٰ زیدی
No comments:
Post a Comment