عارفانہ کلام نعتیہ کلام
رحمتِ باراں سے جب مہکی ہوا صلِّ علیٰ
آسماں نے سات رنگوں سے لکھا صلِ علیٰ
ڈالی ڈالی کا وظیفہ آپﷺ کا ذکرِ جمیل
ہر شجر کے پتے پتے کی دعا صلِ علیٰ
میں سکوتِ حجرۂ دل میں مصلے پر نہ تھا
رات کے پچھلے پہر کِس نے کہا صلِ علیٰ
سوچ میں نورِ محمدؐ کی کِرن اتری تھی اور
کُھل گیا تھا مجھ پہ میرا آئینہ صلِ علیٰ
ہولے ہولے سانس میں مہکی جو خوشبوئے درُود
دِھیرے دِھیرے میری دھڑکن نے کہا صلِ علیٰ
پا لیا ہے اسمِ اعظم دل نے جینے کے لیے
ہر گھڑی وردِ زباں صلِ علیٰ، صلِ علیٰ
دیکھتا ہوں منکشف ہوتے ہوئے میں کائنات
ہر قدم پر دم بہ دم اور جابہ جا صلِ علیٰ
مرحبا آنکھیں جو لپکیں سبز گنبد کو شمار
دل سنہری جالیوں سے جا لگا صلِ علیٰ
اختر شمار
انا للہ و انا الیہ راجعون
اللہ غریق رحمت کرے آج 8 اگست 2022 کو صاحبِ غزل رضائے الٰہی سے انتقال فرما گئے ہیں۔
No comments:
Post a Comment