یہ چال بارگہہ حسن میں چلی ہم نے
کہ تا حیات خبر عشق کی نہ دی ہم نے
چلی نہ پیش جو کچھ حسنِ ڈپلومیٹ کے ساتھ
تو رکھ دی طاق پہ سب دل کی سادگی میں نے
نگاہ ان سے ملی،۔ اوس پڑ گئی دل پر
کہ چشمِ یار پہ عینک بھی دیکھ لی میں نے
وہ بازی ہار گئے تھے جو صاف گوئی میں
گلیسرین کے اشکوں سے جیت لی ہم نے
وفا شعار ہیں، لیکن دروغ گو تو نہیں
تمہیں بُھلا بھی دیا ہے کبھی کبھی ہم نے
سنا جو حسن بھی ان کا ہے حسنِ ڈسپوزل
تو کر لی کباڑی سے دوستی میں نے
فکر تونسوی
No comments:
Post a Comment