Wednesday, 17 August 2022

حرم سے طیبہ کو آنے والے تجھے نگاہیں ترس رہی ہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


حرم سے طیبہ کو آنے والے، تجھے نگاہیں ترس رہی ہیں

جدھر جدھر سے گزر کے آئے، اداس راہیں ترس رہی ہیں

رسول اطہرﷺ جہاں بھی ٹھیرے، وہ منزلیں یاد کر رہی ہیں

جبینِ اقدس جہاں جھکی ہے، وہ سجدہ گاہیں ترس رہی ہیں

جو نور افشاں تھیں لحظہ لحظہ، حضورؐ انور کے دم قدم سے

وہ جلوہ گاہیں تڑپ رہی ہیں ، وہ بارگاہیں ترس رہی ہیں

صبائے بطحا غموں ‌سے پر ہے، فضائے اقصیٰ بھی دکھ بھری ہے

اب ایک مدت سے حال یہ ہے، اثر کو آہیں ترس رہی ہیں

خیال فرما کہ چشمِ عالم تِری ہی جانب لگی ہوئی ہے

نگاہ فرما، کہ ساری اُمت کی میٹھی چاہیں ترس رہی ہیں

نفیس! کیسا یہ وقت آیا، سلوک و احساں کے سلسلوں پر

جہاں مشائخ کی رونقیں تھیں، وہ خانقاہیں ترس رہی ہیں


نفیس الحسینی

No comments:

Post a Comment