راضی کبھی ضمیر کو کر جانا چاہیے
دل بے حِسی سے بھی کبھی بھر جانا چاہیے
امت کی بیٹیوں کی ردا پر جو وار ہو
میداں میں غازیوں کو اتر جانا چاہیے
کشمیر کو بچانے کی ہمت نہیں اگر
بہتر ہے ایسی فوج کو گھر جانا چاہیے
مسلم کا خون بیچتے پھرتے ہیں دربدر
ان لیڈروں کو ڈوب کے مرجانا چاہیے
دشمن جو آئے دیس کی شہ رگ کو کاٹنے
بدلے میں ہم کو حد سے گزر جانا چاہیے
اقبال نے سکھایا ہے صائم کو یہ ہنر
دشمن قلم کے وار سے مر جانا چاہیے
صائم علوی
No comments:
Post a Comment