Thursday, 15 September 2022

مرے ضمیر کی چھت پر علم حسین کا ہے

  عارفانہ کلام منقبت سلام


مِرے ضمیر کی چھت پر علم حسینؑ کا ہے

یہی سبب ہے کہ دل میں الم حسینؑ کا ہے

ہے دین کیا تِرا، مجھ سے اگر کوئی پوچھے

کہوں گا فخر سے میرا دھرم حسینؑ کا ہے

نہیں بنائی مِرے رب نے دوسری جنت

مگر زمانے میں ہاں اک حرم حسینؑ کا ہے

پِسر کے سر کو اٹھا کر جو دُور پھینکا ہے

یہ عشق وہب کی مادر میں ضم حسینؑ کا ہے

نہ کر نصیب کا شکوہ یہیں سے مانگ کہ بس

یہ عرش و فرش یہ لوح و قلم حسینؑ کا ہے

عجیب بات ہے پیاسے رہے حسینؑ، خدا

اگرچہ دنیا میں ہر ایک یم حسینؑ کا ہے

کہاں حسینؑ کی مدحت کہاں علی سلطان

مِرا قلم یہ سخن سب کرم حسینؑ کا ہے


علی سلطان

No comments:

Post a Comment