عارفانہ کلام نعتیہ کلام منقبت سلام
یہ فیصلہ تو خطبۂ خیرُ البشرﷺ میں ہے
جو بات شہر میں ہے، وہی بات در میں ہے
تیرا کوئی جواب نہیں اے غدیرِ خُم
ہر صبح کا جمال تِری دو پہر میں ہے
میں سر کے بل بھی آؤں گا اے محفلِ غدیر
دونوں جہاں کا چین تِری رہگزر میں ہے
انسانیت کی آبرو،۔ ایماں کی روشنی
سب کچھ علیؑ کی مدح کے لعل و گُہر میں ہے
سورج نے جس کو بڑھ کے گلے سے لگا لیا
ایسا بھی ایک چاند نگاہِ سحر میں ہے
اختر کو زندگی کے اندھیروں کا ڈر نہیں
شمعِ غدیرِ خُم کا اُجالا نظر میں ہے
اختر ہاشمی
No comments:
Post a Comment