Friday, 9 September 2022

توڑ کر جس نے دوبارہ مہ کامل باندھا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


توڑ کر جس نے دوبارہ مہِ کامل باندھا

میں نے اس ہاتھ سے یہ ٹوٹا ہوا دل باندھا

بس ارادہ ہی کیا تھا کہ چلوں سوئے رسولؐ

ناقۂ شوق نے خود پیٹھ پہ محمل باندھا

استعارہ کوئی محبوب و محب کا نہ ملا

میں نے آئینے کے آئینہ مقابل باندھا

میرا رخ بھی اسی جانب ہے کہ طوفانوں میں

اہلِ مکہ نے مدینے ہی کو ساحل باندھا

آپؐ کی نرم مزاجی کا جو مضموں سوجھا

میں نے کافر کو بھی کافر نہیں غافل باندھا

ہو گیا سہل مجھے ذکرِ نبیﷺ سے عاصم

قافیہ میں نے کہاں کوئی بمشکل باندھا


لیاقت علی عاصم

No comments:

Post a Comment