عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
شبیرؑ نے دشمن سے صدقہ تو نہ مانگا تھا
دو گُھونٹ ہی مانگے تھے دریا تو نہ مانگا تھا
ننھے علی اصغرؑ کو دو گُھونٹ کی حاجت تھی
معصوم نے تیروں کا تحفہ تو نہ مانگا تھا
پانی ہی تو مانگا تھا ہر پیاسے کا جو حق ہے
عباسؑ نے کچھ حقِ زہراؑ تو نہ مانگا تھا
ٹکرائے تھے فاسق سے اسلام بچانے کو
مولاؑ نے حکومت میں حصہ تو نہ مانگا تھا
جابر کی اطاعت کو تسلیم نہیں کرتے
اک بات اٹھائی تھی قبضہ تو نہ مانگا تھا
کس جُرم پہ زنجیریں بیمار کو پہنائی
سجادؑ نے بابا کا بدلہ تو نہ مانگا تھا
جب نعش حسینؑ اُٹھی طیبہ سے ندا آئی
تبلیغ کا یہ تم سے ثمرا تو نہ مانگا تھا
حقدار پہ غاصب نے بے وجہ ستم توڑے
بیعت ہی نہیں کی تھی کُوفہ تو نہ مانگا تھا
تھا رُتبہ انہیں حاصل پہلے ہی امامت کا
آلِ ابو طالبؑ نے عہدہ تو نہ مانگا تھا
یہ صبر ہی کام آیا کربل میں نواسےؑ کے
الله سے ناناﷺ نے بے جا تو نہ مانگا تھا
کھینچی گئی کیوں چادر پھر سر سے نصیر آخر
زینبؑ نے سکینہؑ کا جُھمکا تو نہ مانگا تھا
سید نصیرالدین نصیر
No comments:
Post a Comment