Friday, 9 September 2022

ہر اک عالم کا داتا تو مرے مولا کہاں جائیں

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہر اک عالم کا داتا تو مرے مولا کہاں جائیں

کرم فرمانے والا تو مرے مولا کہاں جائیں

بتایا ہے ترے محبوب نے بس ہم کو در تیرا

خدائی میں ہے یکتا تو مرے مولا کہاں جائیں

ہماری جان اور ایمان کو محفوظ فرمالے

ترے ہم ہیں ہمارا تو مرے مولا کہاں جائیں

پریشانی کو ٹالے گا مصیبت سے نکالے گا

ہر اک غم کا مداوا تو مرے مولا کہاں جائیں

خدا شامل ہمیں کردے ابابیلو ں کے لشکر میں

دکھادے اب کرشمہ تو مرے مولا کہاں جائیں

تو حاکم ہے تو خالق ہے تو مالک ہے تو رازق ہے

یقیں بھی تو بھروسہ تو مرے مولا کہاں جائیں

علی نے جو کہے اشعار مل کر سب ہی کہتے ہیں

چلا دے سیدھا رستہ تو مرے مولا کہاں جائیں


محمد علی نعیمی

No comments:

Post a Comment