عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر اک عالم کا داتا تو مرے مولا کہاں جائیں
کرم فرمانے والا تو مرے مولا کہاں جائیں
بتایا ہے ترے محبوب نے بس ہم کو در تیرا
خدائی میں ہے یکتا تو مرے مولا کہاں جائیں
ہماری جان اور ایمان کو محفوظ فرمالے
ترے ہم ہیں ہمارا تو مرے مولا کہاں جائیں
پریشانی کو ٹالے گا مصیبت سے نکالے گا
ہر اک غم کا مداوا تو مرے مولا کہاں جائیں
خدا شامل ہمیں کردے ابابیلو ں کے لشکر میں
دکھادے اب کرشمہ تو مرے مولا کہاں جائیں
تو حاکم ہے تو خالق ہے تو مالک ہے تو رازق ہے
یقیں بھی تو بھروسہ تو مرے مولا کہاں جائیں
علی نے جو کہے اشعار مل کر سب ہی کہتے ہیں
چلا دے سیدھا رستہ تو مرے مولا کہاں جائیں
محمد علی نعیمی
No comments:
Post a Comment