Thursday, 8 September 2022

پھر آنے لگیں شہر محبت کی ہوائیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


پھر آنے لگیں شہر محبت کی ہوائیں

پھر پیش نظر ہو گئیں جنت کی ہوائیں

اے قافلے والو! کہیں وہ گنبد خضریٰ 

پھر آئے نظر ہم کو کہ تم کو بھی دکھائیں

ہاتھ آئے اگر خاک تِرےﷺ نقشِ قدم کی

سر پر کبھی رکھیں کبھی آنکھوں سے لگائیں

نظارہ فروزی کی عجب شان ہے پیدا

یہ شکل و شمائل، یہ عبائیں، یہ قبائیں

کرتے ہیں عزیزان مدینہ کی جو خدمت

حسرت انہیں دیتے ہیں وہ سب دل سے دعائیں


حسرت موہانی

No comments:

Post a Comment