عارفانہ کلام نعتیہ کلام
پھر آنے لگیں شہر محبت کی ہوائیں
پھر پیش نظر ہو گئیں جنت کی ہوائیں
اے قافلے والو! کہیں وہ گنبد خضریٰ
پھر آئے نظر ہم کو کہ تم کو بھی دکھائیں
ہاتھ آئے اگر خاک تِرےﷺ نقشِ قدم کی
سر پر کبھی رکھیں کبھی آنکھوں سے لگائیں
نظارہ فروزی کی عجب شان ہے پیدا
یہ شکل و شمائل، یہ عبائیں، یہ قبائیں
کرتے ہیں عزیزان مدینہ کی جو خدمت
حسرت انہیں دیتے ہیں وہ سب دل سے دعائیں
حسرت موہانی
No comments:
Post a Comment