عارفانہ کلام منقبت سلام
زیست گزرے علیؑ علیؑ کرتے
روح نکلے علیؑ علیؑ کرتے
چشمۂ بُغض کو اُتار کے پڑھ
ہیں سپارے علیؑ علیؑ کرتے
پاک شبیرؑ نے بہتّر (72) تن
دِیں پہ وارے علیؑ علیؑ کرتے
کیسے گزرے گا پل صِراط سے تُو
جو نہ گزرے علیؑ علیؑ کرتے
کتنا مشکل تھا حشر تک جانا
ہم تو پہنچے علیؑ علیؑ کرتے
بند ہوں یا جناح میں کھلتے ہوں
در دوارے علیؑ علیؑ کرتے
تم تو انسان کی بات کرتے ہو
ہیں فرشتے علیؑ علیؑ کرتے
کان دل کے لگاؤ دریا پہ
ہیں دھارے علیؑ علیؑ کرتے
جیسے گزری ہے زندگی گزری
اب جو گزرے علیؑ علیؑ کرتے
کاش شائق جئیں یوں دنیا میں
میرے بچے علیؑ علیؑ کرتے
امتیاز احمد شائق
No comments:
Post a Comment