پردے اٹھے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہے
بڑھ کے مقدر آزما، سر بھی ہے سنگِ در بھی ہے
جل گئی شاخِ آشیاں، مٹ گیا تیرا گلستاں
بلبلِ خانماں خراب! اب کہیں تیرا گھر بھی ہے
اب نہ وہ شام شام ہے، اپنی نہ وہ سحر سحر
چاہے جسے بنائیے، اپنا نشانہِ نظر
زد پہ تمہارے تیر کے دل بھی ہے اور جگر بھی بھی ہے
دن کو اسی سے روشنی شب کو اسی سے چاندنی
سچ تو یہ ہے کہ روئے یار شمس بھی ہے قمر بھی بھی ہے
زلفِ بدوش بے نقاب گھر سے نکل کھڑے ہوئے
اب تو سمجھ گئے حضور نالوں میں کچھ اثر بھی ہے
بیدمِؔ خستہ کا مزار آپ تو چل کے دیکھیے
شمع بنا ہے داغِ دل بے کسی نوحہ گر بھی ہے
بیدم شاہ وارثی
No comments:
Post a Comment