Saturday, 7 November 2015

پردے اٹھے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہے

پردے اٹھے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہے
بڑھ کے مقدر آزما، سر بھی ہے سنگِ در بھی ہے
جل گئی شاخِ آشیاں، مٹ گیا تیرا گلستاں
بلبلِ خانماں خراب! اب کہیں تیرا گھر بھی ہے
اب نہ وہ شام شام ہے، اپنی نہ وہ سحر سحر
ہونے کو یوں تو روز ہی شام بھی ہے سحر بھی ہے
چاہے جسے بنائیے، اپنا نشانہِ نظر
زد پہ تمہارے تیر کے دل بھی ہے اور جگر بھی بھی ہے
دن کو اسی سے روشنی شب کو اسی سے چاندنی
سچ تو یہ ہے کہ روئے یار شمس بھی ہے قمر بھی بھی ہے
زلفِ بدوش بے نقاب گھر سے نکل کھڑے ہوئے
اب تو سمجھ گئے حضور نالوں میں کچھ اثر بھی ہے 
بیدمِؔ خستہ کا مزار آپ تو چل کے دیکھیے
شمع بنا ہے داغِ دل بے کسی نوحہ گر بھی ہے

بیدم شاہ وارثی

No comments:

Post a Comment