جام غیروں ہی کو ہر بار عطا ہوتا ہے
ساقیا میں تِرے قربان یہ کیا ہوتا ہے
جس جگہ یار کا نقشِ کفِ پا ہوتا ہے
بس وہیں کعبۂ اربابِ وفا ہوتا ہے
سجدہ اس سر کا ہے جو تن سے جدا ہوتا ہے
قطرہ جو بحرِ محبت میں فنا ہوتا ہے
مٹ مٹا کر گُہر دُرجِ بقا ہوتا ہے
کشتیاں سب کی کنارے پر پہنچ جاتی ہیں
ناخدا جن کا نہیں اُن کا خدا ہوتا ہے
زاہدا ہوتی ہے یاں ترکِ خودی کی تعلیم
مئے کدہ، مدرسۂ اہلِ صفا ہوتا ہے
ان کو ہم چھیڑ کے دشنام سنا کرتے ہیں
گالیوں میں بھی محبت کا مزا ہوتا ہے
خُم لگا دے مِرے منہ سے تِرے میخانے کی خیر
اک دو جام میں ساقی مِرا کیا ہوتا ہے
ہر کہ در کانِ نمک رفت نمک شُد بیدمؔ
قطرہ دریا ہے جو دریا میں فنا ہوتا ہے
بیدم شاہ وارثی
No comments:
Post a Comment