Monday, 9 November 2015

ہو کوئی مسئلہ اپنا دعا پر چھوڑ دیتے ہیں

ہو کوئی مسئلہ اپنا دعا پر چھوڑ دیتے ہیں
اسے خود حل نہیں کرتے خدا پر چھوڑ دیتے ہیں
تمہارے ساتھ فردا میں مراسم کس طرح ہوں گے
چلو یہ فیصلہ اپنی انا پر چھوڑ دیتے ہیں
تمہاری یاد کے بادل گھنیرے کس قدر ہوں گے
چلو یہ سلسلہ کالی گھٹا پر چھوڑ دیتے ہیں
اسے سر پر بٹھائے در بدر پھرتے رہیں کب تک
گھٹن کا بوجھ ہم دوشِ ہوا پر چھوڑ دیتے ہیں
نہ تم مانو گے سچائی نہ ہم سے جھوٹ سنبھلے گا
حقیقت کیا ہے ہم اہلِ صفا پر چھوڑ دیتے ہیں
کھلیں گے زخم سینے میں کی جذبوں کی نمو ہو گی
جو کل ہو گا اسے کل کی ادا پر چھوڑ دیتے ہیں
تعلق تم سے جو بھی ہے نہیں معلوم کل کیا ہو
چلو یہ فیصلہ اپنا خدا پر چھوڑ دیتے ہیں
بلا کا حبس ہے آخر ہوائیں کون بانٹے گا
یہ مشکل ہم صابر رضاؔ پر چھوڑ دیتے ہیں

صابر رضا

No comments:

Post a Comment