ہو کوئی مسئلہ اپنا دعا پر چھوڑ دیتے ہیں
اسے خود حل نہیں کرتے خدا پر چھوڑ دیتے ہیں
تمہارے ساتھ فردا میں مراسم کس طرح ہوں گے
چلو یہ فیصلہ اپنی انا پر چھوڑ دیتے ہیں
تمہاری یاد کے بادل گھنیرے کس قدر ہوں گے
اسے سر پر بٹھائے در بدر پھرتے رہیں کب تک
گھٹن کا بوجھ ہم دوشِ ہوا پر چھوڑ دیتے ہیں
نہ تم مانو گے سچائی نہ ہم سے جھوٹ سنبھلے گا
حقیقت کیا ہے ہم اہلِ صفا پر چھوڑ دیتے ہیں
کھلیں گے زخم سینے میں کی جذبوں کی نمو ہو گی
جو کل ہو گا اسے کل کی ادا پر چھوڑ دیتے ہیں
تعلق تم سے جو بھی ہے نہیں معلوم کل کیا ہو
چلو یہ فیصلہ اپنا خدا پر چھوڑ دیتے ہیں
بلا کا حبس ہے آخر ہوائیں کون بانٹے گا
یہ مشکل ہم صابر رضاؔ پر چھوڑ دیتے ہیں
صابر رضا
No comments:
Post a Comment