اے دوست! ذرا اور قریبِ رگِ جاں ہو
کیا جانے کہاں تک شبِ ہجراں کا دھواں ہو
میں ایک زمانے سے تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں
تم ایک زمانے سے خدا جانے کہاں ہو
میں اس کو تِرے نام سے تعبیر کروں گا
شاید یہ میری آنکھ سے گِرتا ہوا آنسو
احباب کی بھُولی ہوئی منزل کا نشاں ہو
خیال امروہوی
No comments:
Post a Comment