وہ کہاں ہیں جو کبھی رُوٹھ کے مِل جاتے تھے
چاک ہو جاتے گریبان تو سِل جاتے تھے
زخم لگتا جو اچانک کسی صدمے کے سبب
دل نہاں خانۂ احساس میں ہِل جاتے تھے
ظلم کو دیکھ کے خاموش نہ رہتا تھا ہجوم
گردشِ خون سے صحت پہ وہ پڑتا تھا اثر
مسکراہٹ کے کنول ذہن میں کھِل جاتے تھے
اب تو تنہائی کے احساس سے نالاں ہے جمال
پہلے ہر موڑ پہ عشّاق تو مِل جاتے تھے
خیال امروہوی
No comments:
Post a Comment