پرائے ہاتھوں میں جینے کی ہوس کیا
نشیمن ہی نہیں تو پھر قفس کیا
مکان و لا مکاں سے بھی گزر جا
فضائے شوق میں پروازِ خس کیا
کرم صیاد کے صد ہا ہیں، پھر بھی
محبت سرفروشی، جاں سے پیاری
محبت میں خیالِ پیش و پس کیا
اجل خود زندگی سے کانپتی ہے
اجل کی زندگی پر دسترس کیا
زمانے پر قیامت بن کے چھا جا
بنا بیٹھا ہے طوفاں در نفس کیا
قفس سے ہے اگر بے زار بلبل
تو پھر یہ شغلِ تزئینِ قفس کیا
لہو آتا نہیں کھنچ کر مژہ تک
نہ آئے گی بہار اب کے برس کیا
جگر مراد آبادی
No comments:
Post a Comment