رقص کیا کبھی شور مچایا پہلی پہلی بارش میں
میں تھا میرا پاگل پن تھا پہلی پہلی بارش میں
ایک اکیلا میں ہی گھر میں خوفزدہ سا بیٹھا تھا
ورنہ شہر تو بھیگ رہا تھا پہلی پہلی بارش میں
آنے والے سبز دنوں کی سب شادابی اس سے ہے
شام پڑے سو جانے والا دِیپ بجھا کر یادوں کے
رات گئے تک جاگ رہا تھا پہلی پہلی بارش میں
جانے کیا کیا خواب بنے تھے پہلے ساون میں، میں نے
جانے اس پر کیا کیا لکھا پہلی پہلی بارش میں
خالد معین
No comments:
Post a Comment