Sunday, 10 January 2016

رقص کیا کبھی شور مچایا پہلی پہلی بارش میں

رقص کیا کبھی شور مچایا پہلی پہلی بارش میں
میں تھا میرا پاگل پن تھا پہلی پہلی بارش میں
ایک اکیلا میں ہی گھر میں خوفزدہ سا بیٹھا تھا
ورنہ شہر تو بھیگ رہا تھا پہلی پہلی بارش میں
آنے والے سبز دنوں کی سب شادابی اس سے ہے
آنکھوں نے جو منظر دیکھا پہلی پہلی بارش میں
شام پڑے سو جانے والا دِیپ بجھا کر یادوں کے
رات گئے تک جاگ رہا تھا پہلی پہلی بارش میں
جانے کیا کیا خواب بنے تھے پہلے ساون میں، میں نے
جانے اس پر کیا کیا لکھا پہلی پہلی بارش میں

خالد معین

No comments:

Post a Comment