Sunday, 10 January 2016

یہ شب و روز جو اک بے کلی رکھی ہوئی ہے

یہ شب و روز جو اک بے کلی رکھی ہوئی ہے
جانے کس حسن کی دیوانگی رکھی ہوئی ہے
وہ جو اک موجِ محبت تِرے رخ پر جھلکی
آنکھ میں آج بھی اس کی نمی رکھی ہوئی ہے
وقت دیتا ہے جو پہچان تو یہ دیکھتا ہے
کس نے کس درد میں دل کی خوشی رکھی ہوئی ہے
دشت کی چپ سے ابھرتی ہیں صدائیں کیا کیا
بحر کے شور میں کیا خامشی رکھی ہوئی ہے
کوئی دھن ہے پسِ اظہارِ سفر میں جس نے
میری غزلوں کی فضا اور سی رکھی ہوئی ہے
کم کہا  اور سجھایا ہے زیادہ عالیؔ
ایک اک سطر میں اک ان کہی رکھی ہوئی ہے

جلیل عالی

No comments:

Post a Comment