Sunday, 10 January 2016

کیا کیا دلوں کا خوف چھپانا پڑا ہمیں

کیا کیا دلوں کا خوف چھپانا پڑا ہمیں
خود ڈر گئے تو سب کوڈرانا پڑا ہمیں
اک دوسرے سے بچ کے نکلنا محال تھا
اک دوسرے کو روند کے جانا پڑا ہمیں
وحشی ہوا نے ایسے برہنہ کیے بدن
اپنا لہو، لباس بنانا پڑا ہمیں
اپنے دِیے کو چاند بتانے کے واسطے
بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑا ہمیں
ذیلی حکایتوں میں سبھی لوگ کھو گئے
قصہ تمام پھر سے سنانا پڑا ہمیں
عالیؔ! انا پہ سانحے کیا کیا گزر گئے
کس کس کی سمت ہاتھ بڑھانا پڑا ہمیں

جلیل عالی

No comments:

Post a Comment