کیا کیا دلوں کا خوف چھپانا پڑا ہمیں
خود ڈر گئے تو سب کوڈرانا پڑا ہمیں
اک دوسرے سے بچ کے نکلنا محال تھا
اک دوسرے کو روند کے جانا پڑا ہمیں
وحشی ہوا نے ایسے برہنہ کیے بدن
اپنے دِیے کو چاند بتانے کے واسطے
بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑا ہمیں
ذیلی حکایتوں میں سبھی لوگ کھو گئے
قصہ تمام پھر سے سنانا پڑا ہمیں
عالیؔ! انا پہ سانحے کیا کیا گزر گئے
کس کس کی سمت ہاتھ بڑھانا پڑا ہمیں
جلیل عالی
No comments:
Post a Comment