Sunday, 10 January 2016

دل سے اک درد کو رخصت نہیں ہم کر سکتے

دل سے اک درد کو رخصت نہیں ہم کر سکتے
رو تو سکتے ہیں، شقاوت نہیں ہم کر سکتے
ایک ایسی بھی قیامت کی گھڑی ہوتی ہے
جب خود اپنی بھی رفاقت نہیں ہم کر سکتے
یہ بھی دیکھا ہے کہ لڑ جاتے ہیں عفریتوں سے
یوں بھی ہوتا ہے شکایت نہیں ہم کر سکتے
عمر بھر ذہن سے دل سمت کوئی کھینچتا ہے
طے ذرا سی یہ مسافت نہیں ہم کر سکتے
دیکھ رکھا ہے ان آنکھوں نے جہاں کو کیا کیا
اب کسی بات پہ حیرت نہیں ہم کر سکتے
سلسلے پیار کے ہیں، پیار سے طے ہونے دو
اس میں شرطوں کی حمایت نہیں ہم کر سکتے
یہ کڑا وقت ہے، ٹلنے کی دعا ہو عالیؔ
اب کوئی حیلہ و حکمت نہیں ہم کر سکتے

جلیل عالی

No comments:

Post a Comment