دل سے اک درد کو رخصت نہیں ہم کر سکتے
رو تو سکتے ہیں، شقاوت نہیں ہم کر سکتے
ایک ایسی بھی قیامت کی گھڑی ہوتی ہے
جب خود اپنی بھی رفاقت نہیں ہم کر سکتے
یہ بھی دیکھا ہے کہ لڑ جاتے ہیں عفریتوں سے
عمر بھر ذہن سے دل سمت کوئی کھینچتا ہے
طے ذرا سی یہ مسافت نہیں ہم کر سکتے
دیکھ رکھا ہے ان آنکھوں نے جہاں کو کیا کیا
اب کسی بات پہ حیرت نہیں ہم کر سکتے
سلسلے پیار کے ہیں، پیار سے طے ہونے دو
اس میں شرطوں کی حمایت نہیں ہم کر سکتے
یہ کڑا وقت ہے، ٹلنے کی دعا ہو عالیؔ
اب کوئی حیلہ و حکمت نہیں ہم کر سکتے
جلیل عالی
No comments:
Post a Comment