Sunday, 10 January 2016

کیا کہیں عشق کے جنجال میں کیا کرنا ہے

کیا کہیں، عشق کے جنجال میں کیا کرنا ہے
دل ہی جانے ہے کہ کس حال میں کیا کرنا ہے
خواب ہی اپنے بچا لیں تو غنیمت ہے بہت
اور اس صورتِ احوال میں کیا کرنا ہے
وہ جو آزاد فضا میں بھی پر افشاں نہ ہوئے
ان پرندوں نے بھلا جال میں کیا کرنا ہے
اب تو یوں ہے کہ رہو لذتِ لمحات میں گم
جا کے غمزارِ مہ و سال میں کیا کرنا ہے
وہ تو کہتا ہے کہ خواہش کی ہواﺅں میں اڑو
رہ کے احساس کے پاتال میں کیا کرنا ہے
وہ جو آدابِ سخن ہی پہ نہ پورے اتریں
ایسے نغمات کو سُر تال میں کیا کرنا ہے
عشق حالات کے تابع نہیں ہوتا عالیؔ
یہ نہ کہہ عرصۂ پامال میں کیا کرنا ہے

جلیل عالی

No comments:

Post a Comment