Saturday, 9 January 2016

وعدۂ وصل کے ایفا سے پشیماں ہو کر

وعدۂ وصل کے ایفا سے پشیماں ہو کر
وہ تصور میں بھی آتے ہیں تو پنہاں ہو کر
شوقِ دیدار شہیدوں کو ہے کون ان سے کہے
سیر کو جائیں سوئے گورِ غریباں ہو کر
فاتحہ پڑھ کے مِری قبر سے قاتل جو اٹھا
خاک اڑ اڑ کے لپٹنے لگی ارماں ہو کر
میں شبِ وعدہ تصور میں انہیں لے آیا
در پہ بیٹھے ہی رہے غیر نگہباں ہو کر
شمع تربت پہ مِری دیکھ کے بے مونس و یار
پھول تا صبح چڑھاتی رہی گِریاں ہو کر
رات بھر ڈر ہی رہا صبح کے ہونے کا قمرؔ
وصل کی رات کٹی ہے شبِ ہجراں ہو کر

استاد قمر جلالوی

No comments:

Post a Comment