Saturday, 9 January 2016

پیچ خم زلف کے محدود رہے شانے تک

پیچ خم زلف کے محدود رہے شانے تک
سب یہ پابندئ زنجیر تھی دیوانے تک
اس جگہ بزم میں ساقی نے بٹھایا ہے ہمیں
ہاتھ پھیلائیں تو جاتا نہیں پیمانے تک
جو حقیقت میں وفادار کہے جاتے تھے
ان غریبوں کے تو دفنا دیے افسانے تک
باغباں لا تِرا گلشن ہی لہو سے سینچیں
ہم رہیں یا نہ رہیں فصلِ بہار آنے تک
بات میں بات نکلتی رہے گی زاہد
تیری مسجد سے لگا کر مِرے مے خانے تک
پھر وفائیں بھی کرو گے تو نہ پوچھے گا کوئی
سب تمہارے یہ ستم ہیں مِرے مر جانے تک
تھا یہاں بھی کبھی اک منتظم مے خانہ
جوڑ کر رکھ گیا ٹوٹے ہوئے پیمانے تک
آج تک حیف خرد والوں کو منزل نہ ملی
راہ پر آ گئے بہکے ہوئے دیوانے تک
انقلاب اب تجھے کیا چاہیے پہنچا تو دیا
کفر کو کعبہ تک، ایمان کو مے خانے تک
اے قمرؔ! صبح ہوئی اب اٹھو مے خانے سے
شمع گل ہو گئی، رخصت ہوئے پروانے تک

استاد قمر جلالوی

No comments:

Post a Comment