پیچ خم زلف کے محدود رہے شانے تک
سب یہ پابندئ زنجیر تھی دیوانے تک
اس جگہ بزم میں ساقی نے بٹھایا ہے ہمیں
ہاتھ پھیلائیں تو جاتا نہیں پیمانے تک
جو حقیقت میں وفادار کہے جاتے تھے
باغباں لا تِرا گلشن ہی لہو سے سینچیں
ہم رہیں یا نہ رہیں فصلِ بہار آنے تک
بات میں بات نکلتی رہے گی زاہد
تیری مسجد سے لگا کر مِرے مے خانے تک
پھر وفائیں بھی کرو گے تو نہ پوچھے گا کوئی
سب تمہارے یہ ستم ہیں مِرے مر جانے تک
تھا یہاں بھی کبھی اک منتظم مے خانہ
جوڑ کر رکھ گیا ٹوٹے ہوئے پیمانے تک
آج تک حیف خرد والوں کو منزل نہ ملی
راہ پر آ گئے بہکے ہوئے دیوانے تک
انقلاب اب تجھے کیا چاہیے پہنچا تو دیا
کفر کو کعبہ تک، ایمان کو مے خانے تک
اے قمرؔ! صبح ہوئی اب اٹھو مے خانے سے
شمع گل ہو گئی، رخصت ہوئے پروانے تک
استاد قمر جلالوی
No comments:
Post a Comment