انشا جی ہے نام انہی کا، چاہو تو ان سے ملوائیں
ان کی روح دِہکتا لاوا، ہم تو ان کے پاس نہ جائیں
یہ جو لوگ بنوں میں پھِرتے جوگی بیراگی کہلائیں
ان کے ہاتھ ادب سے چومیں، ان کے آگے سِیس نوائیں
ناں یہ لال جٹائیں راکھیں، نہ یہ انگ بھبھوت رمائیں
نگری نگری گھومنے والوں میں ان کی مشہور کتھائیں
ویسے بات کرو تو لاج کے مارے آنکھیں جھک جھک جائیں
ناں ان کی گڈری میں تانبا پیسا، ناں منکے مالائیں
پریم کا کاسا، رُوپ کی بھِکشا، غزل، دوہے، کوِتائیں
ابن انشا
No comments:
Post a Comment