Saturday, 9 January 2016

دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچ

دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچ
اِنشا جی! کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچ
پینا پلانا عین گناہ ہے، جی کا لگانا عین ہوس
آپ کی باتیں سب سچی ہیں لیکن بھری بہار کے بیچ
اے سخیو! اے خوش نظرو! یک گونہ کرم خیرات کرو
نعرہ زناں کچھ لوگ پھِریں ہیں صبح سے شہرِ نگار کے بیچ
خار و خس و خاشاک تو جانیں، ایک تجھی کو خبر نہ ملے
اے گلِ خوبی! ہم تو عبث بدنام ہوئے گلزار کے بیچ
منت قاصد کون اٹھائے شکوۂ درباں کون کرے
نامۂ شوق غزل کی صورت چھپنے کو دو اخبار کے بیچ

ابن انشا

No comments:

Post a Comment