دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچ
اِنشا جی! کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچ
پینا پلانا عین گناہ ہے، جی کا لگانا عین ہوس
آپ کی باتیں سب سچی ہیں لیکن بھری بہار کے بیچ
اے سخیو! اے خوش نظرو! یک گونہ کرم خیرات کرو
خار و خس و خاشاک تو جانیں، ایک تجھی کو خبر نہ ملے
اے گلِ خوبی! ہم تو عبث بدنام ہوئے گلزار کے بیچ
منت قاصد کون اٹھائے شکوۂ درباں کون کرے
نامۂ شوق غزل کی صورت چھپنے کو دو اخبار کے بیچ
ابن انشا
No comments:
Post a Comment