دیکھ مِری جان کہہ گئے باہوؔ کون دلوں کی جانے ہُو
بستی بستی صحرا صحرا، لاکھوں کریں دِوانے ہُو
جوگی بھی جو نگر نگر مارے مارے پھِرتے ہیں
کاسہ لیے بھبھوت رمائے سب کے دَوارے پھِرتے ہیں
شاعر بھی جو میٹھی بانی بول کے من کر ہَرتے ہیں
ان میں سچے موتی بھی ہیں، ان میں کنکر پتھر بھی
ان میں اُتھلے پانی بھی ہیں، ان میں گہرے ساگر بھی
گوری دیکھ کے آگے بڑھنا سب کا جھوٹا سچا ہو
ڈوبنے والی ڈوب گئی وہ گھڑا تھا جس کا کچا ہو
ابن انشا
No comments:
Post a Comment