Wednesday, 6 January 2016

یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھا

یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھا 
اس رات کی تقدیر سنور جائے تو اچھا 
جس طرح سے تھوڑی سی تِرے ساتھ کٹی ہے 
باقی بھی اسی طرح گزر جائے تو اچھا 
دنیا کی نگاہوں میں بھلا کیا ہے برا کیا 
یہ بوجھ اگر دل سے اتر جائے تو اچھا 
ویسے تو تمہی نے مجھے برباد کیا ہے 
الزام کسی اور کے سر جائے تو اچھا 
ویسے ہی قیامت ہے تِرے حسن کا جلوہ 
ٹپ ٹپ کے اگر اور نکھر جائے تو اچھا 
اس حسنِ مجسم کی کوئی نیند نہ لوٹے 
کچھ دیر ابھی رات ٹھہر جائے تو اچھا 
جس صبح کی تقدیر میں لکھی ہو جدائی 
اس صبح سے پہلے کوئی مر جائے تو اچھا 
جا کر تِری محفل سے کہاں چین ملے گا 
اب اپنی جگہ اپنی خبر جائے تو اچھا

ساحر لدھیانوی

No comments:

Post a Comment