Wednesday, 6 January 2016

پھر میں نظر آیا نہ تماشا نظر آیا

پھر میں نظر آیا، نہ تماشا نظر آیا
جب تو نظر آیا مجھے تنہا نظر آیا
اللہ رے، دیوانگیٔ شوق کا عالم
اِک رقص میں ہر ذرہ صحرا نظر آیا
اٹھے عجب اندازہ سے وہ جوشِ غضب میں
چڑھتا ہوا اک حسن کا دریا نظر آیا
کس درجہ تِرا حسن بھی آشوبِ جہاں ہے
جس ذرے کو دیکھا وہ تڑپتا نظر آیا
اب خود تِرا جلوہ جو دکھا دے وہ دکھا دے
یہ دیدۂ بِینا تو تماشا نظر آیا
تھا لطفِ جنوں دیدۂ خوں نابہ فشاں سے
پھولوں سے بھرا دامنِ صحرا نظر آیا

اصغر گونڈوی

No comments:

Post a Comment