عشق ہی سعی مِری، عشق ہی حاصل میرا
یہی منزل ہے ، یہی جادۂ منزل میرا
یوں اڑائے لیے جاتا ہے مجھے دِل میرا
ساتھ دیتا نہیں اب جادۂ منزل میرا
اور آ جائے نہ زندانئ وحشت کوئی
میں سراپا ہوں تمنا ہمہ تن درد ہوں میں
ہر بُنِ مُو میں تڑپتا ہے مِرے، دِل میرا
داستاں ان کی اداؤں کی ہے رنگیں، لیکن
اس میں کچھ خونِ تمنا بھی ہے شامل میرا
بے نیازی کو تِری کچھ بھی پزیرا نہ ہوا
شکرِ اِخلاص مِرا، شکوۂ باطل میرا
اصغر گونڈوی
No comments:
Post a Comment