عشوؤں کی ہے، نہ اس نگہِ فتنہ زا کی ہے
ساری خطا مِرے دلِ شورش ادا کی ہے
مستانہ کر رہا ہوں رہِ عاشقی کو طے
کچھ ابتدا کی ہے، نہ خبر انتہا کی ہے
کھِلتے ہی پھول باغ میں پَژمردہ ہو چلے
ہم خستگانِ راہ کو راحت کہاں نصیب
آواز کان میں ابھی بانگِ درا کی ہے
ڈوبا ہوا سکوت میں ہے جوشِ آرزو
اب تو یہی زبان مِرے مدعا کی ہے
لطفِ نہانِ یار کا مشکل ہے امتیاز
رنگت چڑھی ہوئی ستمِ برملا کی ہے
اصغر گونڈوی
No comments:
Post a Comment