Tuesday, 5 January 2016

توبہ کا تکلف کون کرے حالات کی نیت ٹھیک نہیں

توبہ کا تکلف کون کرے حالات کی نیت ٹھیک نہیں
رحمت کا ارادہ بگڑا ہے برسات کی نیت ٹھیک نہیں
اے شمع بچانا دامن کو عصمت سے محبت ارزاں ہے
آلودہ نظر پروانوں کے جذبات کی نیت ٹھیک نہیں
کل قطع تعلق کر لینا اس وقت تو دنیا میری ہے
یہ رات کی قسمیں جھوٹی ہیں یہ رات کی نیت ٹھیک نہیں
میخانے کی رسم و راہ میں بھی ہو جائے نہ شامل کھوٹ کہیں
خدام فریب آمادہ ہیں، خدمات کی نیت ٹھیک نہیں
تھوڑا سا کڑا گر دل کو کروں عادات بدل تو سکتی ہیں
پر اصل مصیبت تو یہ ہے عادات کی نیت ٹھیک نہیں
رفتارِ زمانہ کا لہجہ سفاک دکھائی دیتا ہے
بر وقت کوئی تدبیر کرو آفات کی نیت ٹھیک نہیں
ڈرتا ہوں عدمؔ پھر آج کہیں شعلہ نہ اٹھے بجلی نہ گرے
بربط کی طبیعت الجھی ہے، نغمات کی نیت ٹھیک نہیں

عبدالحمید عدم

No comments:

Post a Comment