توبہ کا تکلف کون کرے حالات کی نیت ٹھیک نہیں
رحمت کا ارادہ بگڑا ہے برسات کی نیت ٹھیک نہیں
اے شمع بچانا دامن کو عصمت سے محبت ارزاں ہے
آلودہ نظر پروانوں کے جذبات کی نیت ٹھیک نہیں
کل قطع تعلق کر لینا اس وقت تو دنیا میری ہے
میخانے کی رسم و راہ میں بھی ہو جائے نہ شامل کھوٹ کہیں
خدام فریب آمادہ ہیں، خدمات کی نیت ٹھیک نہیں
تھوڑا سا کڑا گر دل کو کروں عادات بدل تو سکتی ہیں
پر اصل مصیبت تو یہ ہے عادات کی نیت ٹھیک نہیں
رفتارِ زمانہ کا لہجہ سفاک دکھائی دیتا ہے
بر وقت کوئی تدبیر کرو آفات کی نیت ٹھیک نہیں
ڈرتا ہوں عدمؔ پھر آج کہیں شعلہ نہ اٹھے بجلی نہ گرے
بربط کی طبیعت الجھی ہے، نغمات کی نیت ٹھیک نہیں
عبدالحمید عدم
No comments:
Post a Comment