Tuesday, 5 January 2016

ہنس ہنس کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا

ہنس ہنس کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا
وہ خود پلا رہے تھے، میں لہرا کے پی گیا
توبہ کے ٹوٹنے کا کچھ کچھ ملال تھا
تھم تھم کے سوچ سوچ کے شرما کے پی گیا
ساغر بدست بیٹھی رہی میری آرزو
ساقی شفق سے جام کو ٹکرا کے پی گیا
وہ دشمنوں کے طنز کو ٹھکرا کے پی گئے
میں دوستوں کے غیض کو بھڑکا کے پی گیا
صد ہا مطالبات کے بعد ایک جامِ تلخ
دنیائے جبر و صبر کو دھڑکا کے پی گیا
سو بار لغزشوں کی قسم کھا کے چھوڑ دی
سو بار چھوڑنے کی قسم کھا کے پی گیا
مئے سی حسِین چیز اور واقعی حرام
میں کثرتِ شکوک میں گھبرا کے پی گیا
​پیتا کہاں تھا صبحِ ازل میں بھلا عدمؔ
ساقی کے اعتبار پہ لہرا کے پی گیا
عبدالحمید عدم

No comments:

Post a Comment