چشمِ ساقی کے اشارات کی باتیں چھیڑو
فصلِ گل میں تو کرامات کی باتیں چھیڑو
کچھ مداوا کرو ماحول کی تاریکی کا
کچھ درخشندہ روایات کی باتیں چھیڑو
نقل موزوں ہو تو وہ اصل میں ڈھل جاتی ہے
دلکشی ہے بھی کوئی خشک حقائق میں عدمؔ
میں تو کہتا ہوں حکایات کی باتیں چھیڑو
عبدالحمید عدم
No comments:
Post a Comment