میں حادثوں سے جام لڑاتا چلا گیا
ہنستا ہنساتا، پیتا پلاتا، چلا گیا
نقش و نگارِ زیست بنانے کا شوق تھا
نقش و نگارِ زیست بناتا چلا گیا
اتنے ہی اختلاف ابھرتے چلے گئے
طوفاں کے رحم پر تھی فقیروں کی کشتیاں
طوفاں ہی کشتیوں کو چلاتا چلا گیا
دنیا مِری خوشی کو بہت گھورتی رہی
میں زندگی کا ساز بجاتا چلا گیا
وہ رفتہ رفتہ جام پِلاتے چلے گئے
میں رفتہ رفتہ ہوش میں آتا چلا گیا
ہر میکدے سے ایک عقیدت تھی اے عدمؔ
ہر مہ جبیں سے آنکھ مِلاتا چلا گیا
عبدالحمید عدم
No comments:
Post a Comment