لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا
پھولوں کے رس میں چاند کی کرنیں مِلا کے لا
کہتے ہیں عمرِ رفتہ کبھی لوٹتی نہیں
جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا
ساغر شکن ہے شیخ بلا نوش کی نظر
کیوں جا رہی ہے روٹھ کے رنگینئ بہار
جا ایک مرتبہ پھر اسے ورغلا کے لا
دیکھی نہیں ہے تُو نے کہیں زندگی کی لہر
اچھا تو جا عدمؔ کی صراحی اٹھا کے لا
عبدالحمید عدم
No comments:
Post a Comment