Wednesday, 6 January 2016

اور ہے اپنی کہانی اور ہے​

اور ہے، اپنی کہانی اور ہے​
داستاں اس کو سنانی اور ہے​
میں تو سویا تھا ستارے اوڑھ کر​
یہ رِدائے آسمانی اور ہے​
ریگِ صحرا میں سفینہ کیا چلاؤں​
اس سمندر کا تو پانی اور ہے​
پھول بھی لیتا چلوں کچھ اپنے ساتھ​
اس کی اِک عادت پرانی اور ہے​
اجنبی! اک پیڑ بھی ہے سامنے​
اس کے گھر کی اِک نشانی اور ہے​
یوں دبائے جا رہا ہوں خواہشیں​
جیسے اِک عہدِ جوانی اور ہے​
پار جانے کا ارادہ تھا عدیم​
آج دریا کی روانی اور ہے​
عدیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment