Wednesday, 6 January 2016

فلک سے خاک پر لایا گیا ہوں​

فلک سے خاک پر لایا گیا ہوں​
کہاں کھویا، کہاں پایا گیا ہوں​
میں زیور ہوں عروسِ زِندگی کا​
بڑے تیور سے پہنایا گیا ہوں​
نہیں عرض و گزارش میرا شیوہ​
صدائے کُن میں فرمایا گیا ہوں​
بتا اے انتہائے حسنِ دنیا​
میں بہکا ہوں کہ بہکایا گیا ہوں​
مجھے یہ تو بتا اے شدتِ وصل​
میں لِپٹا ہوں کہ لپٹایا گیا ہوں​
بدن بھیگا ہوا ہے موتِیوں سے​
یہ کس پانی سے نہلایا گیا ہوں​
اگر جانا ہی ٹھہرا ہے جہاں سے​
تو میں دنیا میں کیوں لایا گیا ہوں​
یہ میرا دل ہے یا تِری نظر ہے​
میں تڑپا ہوں کہ تڑپایا گیا ہوں​
مجھے اے مہرباں! یہ تو بتا دے​
میں ٹھہرا ہوں کہ ٹھہرایا گیا ہوں​
تِری گلیوں سے بچ کر چل رہا تھا​
تِری گلیوں میں ہی پایا گیا ہوں​
جہاں روکی گئی ہیں میری کِرنیں​
وہاں میں صورتِ سایہ گیا ہوں​
عدیمؔ اِک آرزو تھی زِندگی میں​
اسی کے ساتھ دفنایا گیا ہوں​

عدیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment