وہ چشمِ زر کہاں، یہ مِری چشمِ تر کہاں
ٹکرائی بھی تو جا کے نظر سے نظر کہاں
جانا ہے تم کو، جاؤ، چلے ہو مگر کہاں
میں ڈھونڈتا پھِروں گا تمہیں در بدر کہاں
قصرِ شہی کی بات ہے قصرِ شہی کے ساتھ
دولت سے خوابگاہ تو جو بھی خرید لو
نیندیں مگر خرید سکے مال و زر کہاں
تُو آگ ہی لگا کے ذرا خود کو دیکھ لے
تجھ پر یونہی پڑے گی کسی کی نظر کہاں
میں اپنا آپ ڈھونڈ رہا ہوں جہان میں
مجھ کو عدیمؔ اور کِسی کی خبر کہاں
یہ کس مقابلے کے لیے جا رہے ہو تم
آنسو کہاں عدیمؔ، صدف کا گہر کہاں
عدیم ہاشمی
No comments:
Post a Comment