Wednesday, 6 January 2016

محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نے

محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نے 
زمانے اب تو خوش ہو زہر یہ بھی پی لیا میں نے

ابھی زندہ ہوں، لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت میں 
کہ اب تک کس تمنا کے سہارے جی لیا میں نے

انہیں اپنا نہیں سکتا، مگر اتنا بھی کیا کم ہے 
کہ کچھ مدت حسِیں خوابوں میں کھو کر جی لیا میں نے
بس اب تو دامنِ دل چھوڑ دو بے کار امیدو
بہت دکھ سہہ لیے میں نے بہت دن جی لیا میں نے

ساحر لدھیانوی

No comments:

Post a Comment