کبھی اس مکاں سے گزر گیا کبھی اس مکاں سے گزر گیا
تِرے آستاں کی تلاش میں میں ہر آستاں سے گزر گیا
کبھی مہر و ماہ و نجوم سے کبھی کہکشاں سے گزر گیا
جو تِرے خیال میں چل پڑا، وہ کہاں کہاں سے گزر گیا
ابھی آدمی ہے فضاؤں میں، ابھی آدمی ہے خلاؤں میں
یہ مِرا کمالِ گنہ سہی، مگر اس کو دیکھ مِرے خدا
مجھے تُو نے روکا جہاں جہاں میں وہاں وہاں سے گزر گیا
جسے لوگ کہتے ہیں زندگی، وہ تو حادثوں کا ہجوم ہے
وہ تو کہیے میرا ہی کام تھا کہ میں درمیاں سے گزر گیا
چلو عرشؔ محفلِ دوست میں کہ پیامِ دوست بھی ہے یہی
وہ جو حادثہ تھا فراق کا، سرِ دشمناں سے گزر گیا
عرش ملسیانی
پنڈت بال مکند
بہت خوب
ReplyDelete