زندگی کچھ سوز ہے کچھ ساز ہے
دور تک بکھری ہوئی آواز ہے
خامشی اس کی ہے مثلِ گفتگو
ہر نظر جذبات کی غماز ہے
کس طرح زندہ ہوں تجھ کو دیکھ کر
جاں فزا نغمات کا خالق ہے یہ
دل اگرچہ اک شکستہ ساز ہے
اس طرح قائم ہے رقصِ زندگی
ساز اس کا ہے، مِری آواز ہے
اس لیے رکھتا ہوں میں اس کو عزیز
حق پرستی روح کی آواز ہے
منزلِ مقصود تک پہنچے کی عرشؔ
رک نہ پائے گی، مِری آواز ہے
عرش صہبائی
No comments:
Post a Comment